Nahjul Balagha Part 1 Hazrat Ali RA has been borne in Kaaba

Imam Ali says

Nahjul Balagha Part 1

Hazrat Ali RA has been borne in Kaaba 

حضرت علی علیہ اسلام فرماتے ہیں

Imam Ali says


 سچائی دب جائے گی

دوسرا باب

تقلید

قبل اس کے فروغ دین بیان کئے جائیں ۔ مسلہ تقلید کا ذکر ضروری ہے تاکہ عامتہ الناس جو اس اہم ترین مسئلہ سے نا بلد ہیں  واقف ہو جائیں۔ اور ان کی عبادت و اعمال شرعا صیح و درست و بدر گاہ احدیث قبول و منظور ہو جائیں ۔
ہر مکلف  شرعی غیر مجتہد کےلیے واجب ہے کہ وہ مجتہدا علم جامع الشرائط کی تقلید کرے ۔حضرت امام عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں کہ فقہاء میں جو اپنے نفس کو محفوظ رکھنے والا دین کو محفوظ رکھنے والا، خواہش نفسانی کی مخالفت کرنے والا اور خدا اور رسولؑ اور ائمہ معصومینؑ کی اطاعت کرنے والا ہو تو عوامپر ایسے فقیہ و مجتہد کی تقلید لازم ہے
دوم: تقلید صیع ہونے کےلیے مجتہد میں چند امور کا ہونا ضروی ہے ۔اور یہ ہے۔
اول بالغ ہو ، دوسرا عاقل ہو، تیسرا مرد ہو، چوتھا شیعہ اشنا عشری ہو پانچواں عادل ہو، چھٹا والد الحرام نہ ہو۔ ساتوا اس کا حافظہ عام حیثیت سے کم نا ہوکہ استباط  مسائل نہ کرسکے۔ اٹھوا مجتہد ہو۔ نویں زندہ ہو،پس میت کی تقلید نہیں کرسکتا ۔ ہاں اگر زندگی میں کسی کی تقلید کر چکا ہو تو اس کی تقلید پر باقی رہ سکتا ہے۔دسویں اعلم ہو۔ اگر چہ یہ شرط نہیں ہے ہاں جب ایک مجتہد کا فتوٰیٰ دوسرے مجتہد کے خلاف ہو ۔ تب شرط یہ ہے کہ جس کی تقلید کریں اسے دوسرا مجتہد اعلم نہ ہو۔ گیارہویں دنیاں پر اس طرح مائل نا ہو کہ اس کی عدالت میں فرق ا جائیں
سوم: اقواے یہ ہے کہ عمل شدہ سائل میں میت کی تقلید پر باقی رہنا جائیز ہے۔ لیکن جن فسائل پر عمل نہیں کیا ہے ۔ان میں میت کی تقلید کرنا جائیز نہیں ۔ مرد مجتہد کی تقلید ابتداء میں نہیں ہو سکتی۔
Imam Ali says  چہارم: مجتہداعلم کی تقلید اگر ہو سکتی ہو تو احتیاط واجب ہے کہ اعلم کی تحقیق جہاں تک ممکن ہو کی جاۓ ۔ اور اس کی تعین میں باخبر لوگوں کی طرف رجوع کرنا چاہیے جو خود قوت استنباط رکھتے ہوں۔ اور اعلم سے مراد وہ شخص ہے جس کا استنباط دوستوں سے بہتر ہو یعنی ہو ان تمام چیزوں کا سب سے بہتر جانے والا ہو جن سے حکم شرعی کا ستنباط کیا جاتا ہے۔
پنجم : اگر مقلد اپنے مجتہد کے فتوےٰ سے ناواقف  ہو۔ لیکن اس کا یقین رکھتا  ہو کہ جو ہو عمل بجالاتا ہے، اس کے اجزاء و شرائط  سب ٹھیک  ادا کرتا ہے اور کوئ منانی امر عمل میں نہیں  لایا تو اقوےٰ یہ ہے کہ عمل صیع ہوگا۔ اگر چہ احوط استجابی یہ ہے کہ فتوےٰ حاصل کرنے کے بعد اس کا اعادہ کرے۔
شیشم: اگر ایک مجتہد کی تقلیک کرنے کے بعد یہ علم ہو جاے دوسرا مجتہد اعلم ہے تو عدول واجب ہے۔ اور ار دوستے مجتہد کی اعلمیت میں شک ہے یا محص احتمال یاظن اس کی اعلمیت کا ہو تو ایسی ھالت میں عدول جائز ہوگا۔
Imam Ali says

0 comments:

Note: Only a member of this blog may post a comment.

Match