مولاۓ کائنات کے فیصلے ارود Mulla Universe's decision of Amarmalmomanen

         Mulla Universe's decision of Amarmalmomanen

باب اول

        مولائے کائناتؑ کے فیصلے

عہدِ نبوت

قاضئ دین رسولﷺاللہ علیعلیہ اسلام کے فیصلے

شعر

حیدر کتاب دیں کے مطالب کا نام ہے
حیدر ہر اک امر پہ غالب کا نام ہے
حیدر نبیﷺ کی فکر کے قالب کا نام ہے
حیدر شرافت ابوطالبؑ کا نام ہے
حیدر سے جس کو بغٖض ہے وہ نامراد ہے
دنیا میں شاد ہے نہ وہ عقبٰی میں شاد ہے

حنظلہ بن ابی سفیان کا جھوٹا دعویٰ


جب نبی آخر الزمان محمد مصطفٰی ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائ تو اہل مکہ کی تمان امانتیں جو اس وقت آںحضرت ﷺ کے پاس تھیں، انھہں سیدالصادقین علیؑ کے سپرد کیا، تا کہ تمام امانتیں صاحباں امانت تک پہنچ جائیں۔ حنضلہ بن ابی سفیان نے عمیر بن وائل ثقفی کو بلایا اور اس سے کہا:
تم علیؑ ابن ابی طالبؑ کے پاس جاؤاور ان سے 80 مثقال سونے کا دعویٰ کرو، کیونکہ میں نے مثقال سونا محمدﷺ کے پاس بطور امانت رکھا ہوا تھا ۔ حضرت محمدﷺ  تو مکہ کی طرف کوچ فرجا گئے ہیں اور مکہ میں ان کے وکیل علیؑ ہیں جو اس وقت لوگوں کی امانتیں بحکمِ رسولﷺ ان کے سپرد کر رہے ہیں۔ تم جاؤ جا کر ان سے کہو کی آپ میری امانت مجھے واپس کیجیے۔ اگر علیؑ تم سے گواہ طلب کریں تو کہ دینا کہ ہماری گوہی میں اہل قریش کی تمام جماعت موجود ہے۔ تیرے اس کام کے بدل میں، اپنی ماں ہندہ کا مثقال گلوبند تجھے دیتا ہوں۔عمیر بن وائل نے اپنے کام کی اجرت میں گلوبندلیا، اور جناب امیرالمومنینؑ کے پاس آیا۔ کس طرح اسے کہا گیاتھا اسی طرح اس نے امانت کا دعویٰ کیا۔ خلیفتہ الرسولﷺ جناب امیرالمومنین نے عمیر بن وائل سے امانت کی نشانی طلب کی۔اور اہل مکہ کی امانتوں میں میں تلاش کیاتو اس امانت کے آچار بھی نہ ملے ، جب کہ ہر امانت پر اس کے مالک کا نام لکھا ہوا تھا۔ امیر علیہ السلام نے عمیر سے فرمایا اے عمیر بن وائل ان امانتوں میں تمہاری تو کوئ چیر موجود نہیں ہیے۔
اس نے کہا میرے چند گواہ ہیں ۔
آپﷺ نے دریافت فرمایا : تمہارے گواہ کون ہیں ؟ انھیں بلاؤ۔
عمیر نے کہا : میرے گواہ ابو جہل،اس کا بیٹا عکرمہ،عقبہ بن معیط ، ابو سفیان اور اس کا بیٹا حنظلہ ہیں اور میرے گواہی کےلیے حاضر ہیں۔
امام لمتقین علی علیہ السلام گۓ کہ یہ جھوٹو کی گواہی لایا ہے اور فریب  کہ رہا ہے۔چنانچہ آپؑ نے حکم دیا  کہ اپنے گواہوں کو لے کر خانہ کعبہ میں حاضر ہو۔ آپؑ نے گواہوں کو ایسی جگہ طلب کیا کہ گواہ عمیر کہ بات نہ سن سکیں۔
آپؑ نے فرمایا: اے رادر عمیر بن ثقفی گس امانت کا آپ دعویٰ کر رہے ہیں وہ امانت دن کے کس لمحے میں رسولﷺخدا کے سپرد کیرتھی؟
اس نے کہا : میں نے دوپہر کے وقت رسولﷺ خدا کے سپرد کی تھی، اہر انھو نے میرے ہاتھ سے لے کر اسے اپنےغلام کے حوالے کر دیا تھا۔
اس کے بعد آبؑ نے ابو جہل کو طلب کیا ، لیکن اس نے گواہی دینے سے نکار کر دیا اور کہا: مجھ پر گواہی دینا کوئ فرض تو نہٰیں ہے۔
پھر امیر المینیں نے ابو سفیان کو بلایا اور پوچھا۔
ابوسفیان نے کہا : اس نے اپنی امانت غروب آفتاب کے وقت محمد ﷺ کے حوالے

استغفار عذاب الہی سے بچنے کا وسیلہ


 ہمیں گناہ کے مقابلے میں حساس ہونا چاہیے، بھائیو اور بہنو! ہم گناہ سے غفلت نہ کریں، دوسرے کے گناہوں کی طرف توجہ  کریں۔ آج ہمارا سب سے بڑا کام اور درس یہی ہے۔ میدان جہاد میں حاضر ہونے کے لیے ہمیں اس توجہ اور حساسیت کی احتیاج ہے۔ اوراگریہ نہ ہوتو ہم میدان جہاد میں شکست کھا جائیں گے۔ اگر یہ نہ ہو تو ہمارے پاس دشمن کا مقابلہ کرنے کی جرات اور دل نہیں ہوگا۔ اگر یہ ہمت نہ ہو تو اسلامی حیات  کو جاری رکھنا غیر ممکن ہوجائے گا۔ یہ احساس یعنی جو گناہ ہم سے سرزد ہوتے ہیں، ان کے مقابلے میں احساس ہونا اور اس طرف توجہ دینا کہ جو کام میں نے انجام دیا ہے، یہ بات جو میں نےکی ہے، غلط ہے، ظلم ہے۔ ایک مسلمان کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ حدود الٰہی سے تجاوز ہے۔ اسلامی عرف میں خود اس توجہ اور اس حساسیت کا نام تقوی ہے۔ توجہ کرنا حساسیب کرنا اور اس حساسیت کے نتیجے میں اجتناب کرنا اور پرہیز کرنا ہے ہی تقوی ہے۔


دیکھیں،  ہر ہفتے ائمہ جمعہ کی طرف سے مسلمانوں کو تقوی کا حکم ہونا چاہیے۔ اسلامی معاشرے کے اندر ایسی روح کا ہونا بہت اہم ہے ،یہ اس کے آثار کی وجہ سے ہے، کیونکہ معاشرے کے اندر تقوی کے نہ ہونے کے بہت اہم اثرات ہے۔ اگر معاشرے کے اندر تقویٰ نہ ہو، تو تقویٰ کے اعتبار سے لوگوں کی حالت پتلی ہو اور تقوی ختم ہو جائے تو اسلامی حیات کو جاری و ساری رکھنا ناممکن ہے۔ یہ اس قدر اہم ہے۔ کہ اگر ہم اپنے اندر روح استغفار کو زندہ کریں تو طلب مغفرت کرنے سے کافی حد تک ازالہ ہو سکتا ہے۔

 

 میں ایک اور روایت کرتا ہوں اور اپنے فرائض ختم کرتا ہوں۔ نہج البلاغہ میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کا قول ہے کہ آپ نے فرمایا:

"خداوند نے عذاب الہی سے بچانے کے لئے زمین پر دو وسیلے قرار دیے تھے ان میں سے ایک لوگوں کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ دوسرے کے بارے میں محتاط رہے ۔اسے ہاتھ سے نہ جانے دے اس سے متاثر ہے" اس سے متمسک رھیں۔ جب تک امن و امان کا یہ وسیلہ موجود رہا، لوگوں پر عذاب نازل نہیں ہوتا تھا، جو وسیلہ لوگوں کے ہاتھ سے نکل گیا ہے وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باقی رہا، وہ یہ ہے، جو باقی ہے:وہ استغفار ہے۔ اس کے بعدامیرالمومینین علیہ السلام اس آیت سے تمسک کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا: کہ خدا اس وقت تک ان پر عذاب نہیں کرسکتا جب تک آپ موجود ہیں۔ اور اسی طرح اس وقت تک عذاب کرنے والا نہیں ہے جب تک وہ استغفار کر رہے ہیں ۔ملت اسلامیہ مختلف ادوار میں استغفار سے کام نہیں لیا تو بہت بڑے عذاب میں گرفتار ہوتی رہی، ہم اپنے گناہوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ہے۔ ہم ایران اور بہت سے دیگر اسلامی ممالک میں ذلت و خواری میں دچار ہوۓ،




0 comments:

Note: Only a member of this blog may post a comment.

Match