چار فراد کے خون بہا کا فیصلہ

چار فراد کے خون بہا کا فیصلہ

چار فراد کے خون بہا کا فیصلہ

یہ حدیث مختلف اسناد کے ساتھ شیعہ سنی کتب میں موجود ہے۔ یہا ں ہم علی ابن ابراہیم جو امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد ہیں، کی روایت پر اکتفا کرتے ہیں کہ آپ نے فرماہا: رسولﷺ خدا نے امیر المومنینؑ کو یمن کا قاضی بنا کر بھیجا۔ اسی دوران کچھ افراد نے شیر کو شکار کرنے کے لیے ایک گہرا گڑھا کھودا، شیر اس گڑھے میں گر گیا ۔ اب شیر کا تماشا دیکھنے کےلیے وہاں لوگوں  کا ایک جم غفیر جمع ہو گیا۔ شیر کو دیکھنے کے لیے لوگ ایک دوسرے کو دھکے دینے لگے۔ انتے میں ایک شخص کا پاؤں پھسل گیا۔ جیسے ہی وہ گڑھے میں گرنے لگا۔اس نے گرتےہوۓ گھڑھے پر کھڑے ہوۓ ایک دوسرے شخص کا دامن پکڑ لیا۔ اس دوسرے شخص نے کسی تیسرے مرد کا دامن پکڑ لیا، اور اس تیسرے شخص نے بھی کسی اور کا دامن پکڑا اور یوں چاروں اراد گڑھے میں گر گۓ ۔شیر نے ان چاروں افراد کو چیرپھاڑ کر ہلاک کردیا۔ نزدیک کھڑے ہوے ایک شخص نے لپک کر شیر کے سر پر تلوار کا  وار کیا اور اسے مارڈالا۔اس کے بعد تمام افراد اس  پہلے شخص کے گھر کی طرف روانہ ہوۓ جس نے گڑے میں گرتے ہوۓ ایک دوسرے شخص کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔ اور اس دوسرے شخص نے بھی ایک تیسرے شخص کو پکڑ لیا تھا، حتیٰ کے چارو افراد  شیر کے گڑہے میں گر کر ہلاق ہوگۓ تھے۔اس وقت ان تمام افراد کا پہلے شخص کےورثاء سے ایک ہی اصرار تھا کہ تم لوگ ان تین افراد کی دیت ادا کرو، کیونکہ تمہارا آدمی ان تین اشخاص کی ہلاقت کا سبب بنا ہے۔

پہلے آدمی کے ورثاء نے کہا: ہمارے آدمی سے صرف ایک آدمی کی ہلاقت ہوئ ہے، اس لیے ہم ایک آدمی کا خون بہا دیں گے نا کہ تیں فراد کا۔ اس بات پر دونوں طرف کے لوگوں میں خوب اختلاف بھڑ گیا۔ مقتولین کے ورثاء نے  تلوریں کھینچ لیں اور آپس میں جھگڑنے لگے۔ معاملہ خون خرابے کت جا پہنچا تو کچھ لوگوں نے معاملے کو بگڑنے سے بچانے کے لیے مشورہ دیا کہ کیوں نا اس معاملے کو جناب امیرالمومینینؑ کے پاس لے کر چلیں دا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ ہو سکے۔
مولاۓ کائنات علی علیہ السلام ان دنوں  یمن میں ہی تھے۔ تمام افراد آپؑ کے پاس آۓ اور آپؑ کو تمام قصے سے آگاہ کیا۔

آپؑ نے فرمایا: اپنےج آپ کو ہلاک نہ کرو ایکج دوستے کو قتل نہ کرو۔ ابھی رسولﷺ خدا سرور دو کہان زندہ ہیں اور میں (امیرلمومینینؑ) بھی تمھارے درمیان موکود ہو (اگر تم چاہتے ہو کہ بغیر جھگڑے کے تمہارے اختلاف ختم ہو جائیں) چنانچہ ان لوگوں نے آپؑ کی بات پڑے غور سے سنی اور بڑے ادب و احترام سے کھڑے ہو کر انتظار کرنے لگے کہ جناب امیر علیہ السلام ان کے درمان فیصلہ کریں۔
جناب امیر علی السلام نے ان لوگوں کو مخاطپ کرتے ہوۓ فرمایا: میں آپ لوگوں کے درمیان ایک فیصلہ کرتا ہوں ۔ اگر آپ اس فیصلے پر راضی ہوگۓ تو بہت خوب اور اگر راضی نہ ہوۓ ٹو خاموشی اختیار کریں اور میں اس معاملے کورسولﷺخدا کی عدالت عدلیہ میں لے کا کر پیش کریں تاکہ وہ آپ لوگوں کے درمیان فیصلہ مرمائیں اورآپ لوگ اس باہمی اختالافات سے بچ جائیں ۔تمام لوگ امیرالمومینین  
ؑ کی اس راۓ سے راضی ہو گۓ 

استغفار عذاب الہی سے بچنے کا وسیلہ

 ہمیں گناہ کے مقابلے میں حساس ہونا چاہیے، بھائیو اور بہنو! ہم گناہ سے غفلت نہ کریں، دوسرے کے گناہوں کی طرف توجہ  کریں۔ آج ہمارا سب سے بڑا کام اور درس یہی ہے۔ میدان جہاد میں حاضر ہونے کے لیے ہمیں اس توجہ اور حساسیت کی احتیاج ہے۔ اوراگریہ نہ ہوتو ہم میدان جہاد میں شکست کھا جائیں گے۔ اگر یہ نہ ہو تو ہمارے پاس دشمن کا مقابلہ کرنے کی جرات اور دل نہیں ہوگا۔ اگر یہ ہمت نہ ہو تو اسلامی حیات  کو جاری رکھنا غیر ممکن ہوجائے گا۔ یہ احساس یعنی جو گناہ ہم سے سرزد ہوتے ہیں، ان کے مقابلے میں احساس ہونا اور اس طرف توجہ دینا کہ جو کام میں نے انجام دیا ہے، یہ بات جو میں نےکی ہے، غلط ہے، ظلم ہے۔ ایک مسلمان کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ حدود الٰہی سے تجاوز ہے۔ اسلامی عرف میں خود اس توجہ اور اس حساسیت کا نام تقوی ہے۔ توجہ کرنا حساسیب کرنا اور اس حساسیت کے نتیجے میں اجتناب کرنا اور پرہیز کرنا ہے ہی تقوی ہے۔


دیکھیں،  ہر ہفتے ائمہ جمعہ کی طرف سے مسلمانوں کو تقوی کا حکم ہونا چاہیے۔ اسلامی معاشرے کے اندر ایسی روح کا ہونا بہت اہم ہے ،یہ اس کے آثار کی وجہ سے ہے، کیونکہ معاشرے کے اندر تقوی کے نہ ہونے کے بہت اہم اثرات ہے۔ اگر معاشرے کے اندر تقویٰ نہ ہو، تو تقویٰ کے اعتبار سے لوگوں کی حالت پتلی ہو اور تقوی ختم ہو جائے تو اسلامی حیات کو جاری و ساری رکھنا ناممکن ہے۔ یہ اس قدر اہم ہے۔ کہ اگر ہم اپنے اندر روح استغفار کو زندہ کریں تو طلب مغفرت کرنے سے کافی حد تک ازالہ ہو سکتا ہے۔


 

 میں ایک اور روایت کرتا ہوں اور اپنے فرائض ختم کرتا ہوں۔ نہج البلاغہ میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کا قول ہے کہ آپ نے فرمایا:

"خداوند نے عذاب الہی سے بچانے کے لئے زمین پر دو وسیلے قرار دیے تھے ان میں سے ایک لوگوں کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ دوسرے کے بارے میں محتاط رہے ۔اسے ہاتھ سے نہ جانے دے اس سے متاثر ہے" اس سے متمسک رھیں۔ جب تک امن و امان کا یہ وسیلہ موجود رہا، لوگوں پر عذاب نازل نہیں ہوتا تھا، جو وسیلہ لوگوں کے ہاتھ سے نکل گیا ہے وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باقی رہا، وہ یہ ہے، جو باقی ہے:وہ استغفار ہے۔ اس کے بعدامیرالمومینین علیہ السلام اس آیت سے تمسک کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا: کہ خدا اس وقت تک ان پر عذاب نہیں کرسکتا جب تک آپ موجود ہیں۔ اور اسی طرح اس وقت تک عذاب کرنے والا نہیں ہے جب تک وہ استغفار کر رہے ہیں ۔ملت اسلامیہ مختلف ادوار میں استغفار سے کام نہیں لیا تو بہت بڑے عذاب میں گرفتار ہوتی رہی، ہم اپنے گناہوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ہے۔ ہم ایران اور بہت سے دیگر اسلامی ممالک میں ذلت و خواری میں دچار ہوۓ،


0 comments:

Note: Only a member of this blog may post a comment.

Match